میرا جسم میری مرضیMy body is my will

 میرا جسم میری مرضی.گزشتہ دنوں وطن عزیز کے صوبہ پنجاب میں ایک انتہائی بھیانک واقعہ رونما ھوا۔ ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھایا جا رھا کہ ایک نوجوان لڑکا ایک لڑکی کو گود میں اٹھائے ہسپتال میں داخل ھورھا.دیکھنے میں تو یہی نظر آرہا کہ جیسا کہ ایک خاوند اپنی بیوی ایمرجنسی حالات میں اٹھائے ھوئے ھے حالات تو بہرحال ایمرجنسی کے ہی تھے لیکن رشتہ اور تعلق کچھ اور تھا.  لڑکی کسی یونیورسٹی کی طالبہ تھی بالغ تھی ، عاقل تھی ، سمجھدار تھی.گھر سے دور ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔ ماحول سے مجبور ھو کر اپنی مرضی سے دوست چنا.دوستی کے یہ معاملات اس نہج پر پہنچے کہ نوبت زنا/میرا جسم میری مرضی/ تک جا پہنچی. حوس کے اس پجاری نوجوان نے ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا ھوگا کہ نتیجہ کیا نکلےگا۔ لڑکی کا حمل ٹھرا ، اسقاط حمل کے لئے لڑکی گھر سے 1 لاکھ پچاس ہزار روپے یونیورسٹی فیس کے بہانے لے کر آتی ھے۔ پھر وہ اور اسکا دوست لوکل کسی کلینک میں جاتے ہیں۔ وہاں اس نوجوان لڑکی کو بے ھوش کرنے کے لئے انجکشن لگتا ھے. لیکن انجکشن میں انستھزیہ زیادہ مقدار میں موجود ھوتا ھے۔ جس سے لڑکی کی حالت غیر ہوگئی.اب کلینک میں موجود عملے نے اس کے دوست کو بتایا کہ اب اسے ہاسپٹل لے جاؤ۔ ہاسپٹل پہنچ کر وہ نوجوان لڑکی زندگی کی بازی ہار چکی تھی. لہذا اس جرم میں شریک اسکا دوست آپریشن ٹیبل پر پڑی اپنی ساتھی کی لاش چھوڑ کر بھاگ نکلا.اگر یہ لڑکا اس کا شوہر ہوتا تو نہ بھاگتا اور ڈاکٹرز کے آگے ھاتھ جوڑتا اللہ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگتا اور ہسپتال کے باہر فٹ پاتھ پر بیٹھے کسی فقیر کو صدقہ دیتا کہ میری بیوی کی جان بچ جائے.لیکن چونکہ ایسا معاملہ یہاں نہیں تھا۔ لہذاء یہ ہے/میراجسم میری مرضی/والوں کا بھیانک چہرہ.اس سارے واقعے کے رونماء ہونے کے بعد دیسی لبرلز اور دجالی میڈیا کی مجرمانہ خاموش سمجھ سے بالاتر ہے.سوال یہ ہے کہ میرا جسم میری مرضی والے آج خاموش کیوں ہیں؟ اب کیوں کوئی ملک کے کسی کونے میں موم بتی

میرا جسم میری مرضیMy body is my will

 
 میرا جسم میری مرضی.

گزشتہ دنوں وطن عزیز کے صوبہ پنجاب میں ایک انتہائی بھیانک واقعہ رونما ھوا۔ ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھایا جا رھا کہ ایک نوجوان لڑکا ایک لڑکی کو گود میں اٹھائے ہسپتال میں داخل ھورھا.

دیکھنے میں تو یہی نظر آرہا کہ جیسا کہ ایک خاوند اپنی بیوی ایمرجنسی حالات میں اٹھائے ھوئے ھے حالات تو بہرحال ایمرجنسی کے ہی تھے لیکن رشتہ اور تعلق کچھ اور تھا.
  لڑکی کسی یونیورسٹی کی طالبہ تھی بالغ تھی ، عاقل تھی ، سمجھدار تھی.

گھر سے دور ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔ ماحول سے مجبور ھو کر اپنی مرضی سے دوست چنا.
دوستی کے یہ معاملات اس نہج پر پہنچے کہ نوبت زنا/میرا جسم میری مرضی/ تک جا پہنچی. حوس کے اس پجاری نوجوان نے ایک لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا ھوگا کہ نتیجہ کیا نکلےگا۔ لڑکی کا حمل ٹھرا ، اسقاط حمل کے لئے لڑکی گھر سے 1 لاکھ پچاس ہزار روپے یونیورسٹی فیس کے بہانے لے کر آتی ھے۔ پھر وہ اور اسکا دوست لوکل کسی کلینک میں جاتے ہیں۔ وہاں اس نوجوان لڑکی کو بے ھوش کرنے کے لئے انجکشن لگتا ھے. لیکن انجکشن میں انستھزیہ زیادہ مقدار میں موجود ھوتا ھے۔ جس سے لڑکی کی حالت غیر ہوگئی.
اب کلینک میں موجود عملے نے اس کے دوست کو بتایا کہ اب اسے ہاسپٹل لے جاؤ۔ ہاسپٹل پہنچ کر وہ نوجوان لڑکی زندگی کی بازی ہار چکی تھی.

لہذا اس جرم میں شریک اسکا دوست آپریشن ٹیبل پر پڑی اپنی ساتھی کی لاش چھوڑ کر بھاگ نکلا.اگر یہ لڑکا اس کا شوہر ہوتا تو نہ بھاگتا اور ڈاکٹرز کے آگے ھاتھ جوڑتا اللہ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگتا اور ہسپتال کے باہر فٹ پاتھ پر بیٹھے کسی فقیر کو صدقہ دیتا کہ میری بیوی کی جان بچ جائے.

لیکن چونکہ ایسا معاملہ یہاں نہیں تھا۔ لہذاء یہ ہے/میراجسم میری مرضی/والوں کا بھیانک چہرہ.

اس سارے واقعے کے رونماء ہونے کے بعد دیسی لبرلز اور دجالی میڈیا کی مجرمانہ خاموش سمجھ سے بالاتر ہے.

سوال یہ ہے کہ میرا جسم میری مرضی والے آج خاموش کیوں ہیں؟ اب کیوں کوئی ملک کے کسی کونے میں موم بتی